amp-web-push-widget button.amp-subscribe { display: inline-flex; align-items: center; border-radius: 5px; border: 0; box-sizing: border-box; margin: 0; padding: 10px 15px; cursor: pointer; outline: none; font-size: 15px; font-weight: 500; background: #4A90E2; margin-top: 7px; color: white; box-shadow: 0 1px 1px 0 rgba(0, 0, 0, 0.5); -webkit-tap-highlight-color: rgba(0, 0, 0, 0); } .amp-logo amp-img{width:190px} .amp-menu input{display:none;}.amp-menu li.menu-item-has-children ul{display:none;}.amp-menu li{position:relative;display:block;}.amp-menu > li a{display:block;} /* Inline styles */ span.acss02149{font-family:Noto Nastaleeq;}p.acss25665{text-align:right;}span.acssbc2b5{color:#993300;font-family:Noto Nastaleeq;font-size:20px;}

Tipu Sultan – Part 1

شیرِ میسور  ٹیپو سُلطان (پہلا حصہ)

 

شیرِ میسور سلطان ٹیپو نے ۴؍ مئی ۱۷۹۹ء کو فجر کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد اپنی گھوڑی پر سوار ہو کر قلعے کی فصیل کی طرف روانہ ہوئے۔ وہاں سلطان نے دیوار کے شگاف کو دیکھا اور اس کو درست کرنے کے احکام صادر کیے۔ فصیل پر بیٹھنے کے لیے ایک سائبان لگانے کا حکم دیا اور محل میں واپس آ گئے۔ تقریباً دس بجے چند نجومی حاضر ہوئے اور سلطان سے کہا کہ :’’ آج کا دن آپ کے لیے بہت منحوس ہے اور خاص طور پر دوپہر کا وقت، بہتر یہ ہے کہ آپ سارا وقت اپنے سرداروں اور وزیروں کے ساتھ بسر کریں اور نحوست کو ٹالنے کےلیے زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات ادا کریں۔‘‘

                                                            نجومیوں کی یہ پیشین گوئیاں سُن کر سلطان نے صدقہ و خیرات کے سازوسامان تیار کرنے کا حکم دیا اور غسل کرنے کے بعد سونے، چاندی اور جواہرات درویشوں اور برہمنوں میں تقسیم کیے۔ جب کہ غریبوں،  محتاجوں اور مسکینوں میں روپیہ اور کپڑا بانٹا۔ اُس کے بعد سلطان دسترخوان پر کھانا کھانے کے لیے بیٹھے۔ ابھی ایک نوالہ ہی کھانا کھایا تھا کہ شہر کی طرف سے چیخ و پکار سنائی دی۔ سلطان کا یہ آخری نوالہ تھا۔ انھوں نے کھانا چھوڑ دیا اور پوچھا : ’’یہ شور کیسا ہے؟

      ‘‘   چند وفاداروں نے آ کر خبر دی کہ:’’ سید غفّار توپ کا گولہ لگنے سے شہید ہو گئے ہیں۔دشمن کسی مزاحمت کے بغیر قلعے کی طرف بڑھتے چلے آ رہے ہیں’’

سید غفّار سلطان ٹیپو کے بہت ہی زیادہ قریبی اور وفادار ساتھی تھے۔ سری رنگا پٹّم میں صرف یہی ایک ایسے وفادار سردار بچے تھے جو سلطان کو دل و جان سے چاہتے تھے۔ سلطان نے جیسے ہی اُن کی شہادت کی خبر سُنی۔ دسترخوان سے فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور ہاتھ دھوکر کہا :’’ ہمارے وفادار ساتھی چلے گئے تو پھر ہم بھی چلیں گے۔‘‘ باہر نکل کر سلطان اپنی گھوڑی پر سوار ہوئے اور چند وفادار سپاہیوں کے ساتھ قلعے کے دریچے کی طرف بڑھے۔ وہ دریچے سے نکل کر دشمن کی طرف بے خوفی سے بڑھتے چلے گئے اور جارحانہ انداز میں حملہ کیا۔ اسی دوران میر صادق غدّارِ وطن دریچے کے قریب آیا اور اُس نے دریچہ بند کر دیا تاکہ سلطان ٹیپو دوبارہ قلعے میں داخل نہ ہوسکیں۔

 

جوں ہی نمک حرام میر صادق نے دریچہ بند کیا، بالکل اُسی وقت سلطان ٹیپو کے ایک وفادار سپاہی نے اُسے ایسا کرتے ہوئے دیکھ لیا۔ اُس نے میر صادق کو خوب ڈانٹا پھٹکارا اور کہا کہ:’’ غدّارِ وطن ! تو سلطان کو دشمنوں کے حوالے کر کے اپنی جان بچانا چاہتا ہے ؟‘‘ اتنا کہہ کر اُس جاں نثار نے تلوار کا ایسا زوردار وار کیا کہ غدّار میر صادق بری طرح چکرا کر گھوڑے سے گر پڑا۔ پھر اُس سپاہی نے میر صادق کو تلوار سے مار مار کر قیمہ بنا دیا اور لاش کو اٹھا کر گندگی کے ڈھیر میں پھینک دیا۔ اس طرح وطن فروش، نمک حرام، ننگِ دین، ننگِ وطن میر صادق کا انجام بڑا بھیانک ہوا۔

                                                            انگریز فوج قلعے تک پہنچنے کی جان توڑ کوشش کر رہی تھی۔ لیکن مورچوں پر سلطان ٹیپو کی وفادار اور جاں نثار فوج اُن کا راستا روکے ہوئے تھی جس کی وجہ سے انگریزوں کو قلعے پر قبضہ کرنے میں دشواریاں پیش آ رہی تھیں۔ شاطر انگریزوں نے پھر سازش شروع کر دی اور محل میں موجود غدّار وزیرِ خزانہ پورنیا کی مدد حاصل کی۔

چناں چہ جب جنگ پورے عروج پر تھی اور سلطان ٹیپو کے وفادار سپاہی انگریزوں کو کاٹ کاٹ کر پھینک رہے تھے۔عین اُسی وقت غدّار پورنیا نے لشکر میں یہ اعلان کروا دیا کہ:’’ سپاہی آ کر اپنی اپنی تنخواہ لے جائیں۔‘‘ اصل میں پورنیا مورچوں سے فوج کوکسی طرح سے ہٹانا چاہتا تھا تاکہ قلعے پر انگریز فوج آسانی سے چڑھا ئی کر دے۔ وزیرِ خزانہ کا اعلان سُن کر سپاہی اپنی تنخواہ لینے کے لیے جیسے ہی مورچوں سے ہٹے اِن غدّاروں نے انگریزوں کو سفید رومال ہِلا ہلا کر بتا دیا کہ راستا بالکل صاف ہے۔

                                                            انگریز جنرل بیئرڈ نے اشارہ پاتے ہی فوج کو تیزی کے ساتھ آگے بڑھایا۔ایک دوسرا غدّار میر قاسم علی انگریزی فوج کی رہنمائی کر رہا تھا۔ سب سے پہلے یہی نمک حرام دشمنِ وطن میر قاسم علی فصیل پر چڑھا۔ اُس کے بعد انگریزی فوج نے اوپر چڑھ کر اپنا پرچم لہرا دیا۔ اس طرح قلعے کی فصیل پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا۔

سلطان ٹیپو نے جب غدّاروں کی یہ غدّاری دیکھی تو وہ آپے سے باہر ہو گئے۔ لیکن اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ انھوں نے اپنے جاں نثاروں کے ساتھ قلعے میں واپس جا کر انگریزوں کی پیش قدمی روکنے کا ارادہ کیا۔ لیکن میر صادق نے تو دریچہ بند کر دیا تھا۔ سلطان نے دربانوں کو آواز دی کہ وہ دروازہ کھولیں۔ لیکن انھوں نے سُنی اَن سُنی کر دی۔ جب کہ دشمن فوج کا ایک دستہ فائرنگ کرتے ہوئے تیزی سے اِس عظیم مجاہدِ آزادی سلطان ٹیپو کی طرف بڑھ رہا تھا۔

                                                            سلطان ٹیپو بہادر باپ کے بہادر بیٹے تھے۔ خود کو موت کے منہ میں دیکھ کر بھی انھوں نے ہمّت نہ ہاری۔ وہ دنیا میں اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے تھے۔ اسی لیے تلواروں کی چھاؤں اور گولیوں کی بوچھار میں بھی وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ سلطان کے ایک جاں نثار خادم راجا خاں نے ایسے عالم میں کہا کہ: ’’ حضور! آپ اپنے آپ کو انگریز افسر ظاہر کر دیں، حملہ آور آپ کے مرتبے کا خیال رکھیں گے اور اس طرح آپ کی جان بچ جائے گی۔ ‘‘سلطان نے جب یہ مشورہ سنا تو اُن کی رگِ غیرت پھڑک اُٹھی اور گرج دار آواز میں کہا کہ : نہیں ہرگز نہیں، مَیں دشمن سے رحم کی بھیک کبھی نہیں مانگوں گا، شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے۔

                                                            سلطان ٹیپو کو اِس بات کا پکّا یقین ہو چلا تھا کہ اب اُن کی زندگی کا چراغ گل ہونے والا ہے۔انھوں نے موت سے ڈرنے کی بجائے ایک بہادر کی طرح اُس کو گلے لگانے کا تہیہ کر لیا۔ انھوں نے تیزی سے دشمن کی طرف بڑھ کر حملہ بول دیا اور آن کی آن میں کئی دشمنوں کو ختم کر دیا۔ اتنے میں ایک گولی سلطان کی گھوڑی کو لگی اور وہ وہیں گر پڑی۔ سلطان کا جذبۂ جہاد اب بھی سرد نہ ہوا۔ بل کہ وہ اب پیدل ہی دشمن سے جنگ کرنے لگے۔ اُن کے وفادار اور بہادر سپاہیوں نے اُنھیں اپنے گھیرے میں لے لیا اور اپنے سلطان کو بچانے کے لیے ایک ایک کر کے اپنی جانیں قربان کر دیں۔ انگریز سپاہی چاروں طرف سے اکٹھے ہو کر اسی جگہ اپنی زور آزمائی کرنے لگے۔ اب دو بہ دو لڑائی ہو رہی تھی۔ دونوں طرف کے سپاہی اپنی بہادری کے جوہر دکھا رہے تھے۔ چاروں طرف سے گولیوں کی آواز اور تلواروں کی جھنکار سنائی دی رہی تھی کہ اتنے میں ایک گولی سلطان ٹیپو کے سینے میں دل کے پاس لگی اور سلطان زمین پر گر پڑے۔

                                                             سلطان کے جاں نثار ایک ایک کر کے شہید ہو چکے تھے۔ اب وہ بالکل تنہا رہ گئے تھے۔انھیں اِس وقت اٹھانے والا کوئی بھی نہ تھا۔ اچانک ایک انگریز سپاہی سلطان کے قریب آیا اور اُس نے سلطان کی کمر سے اُن کی خوب صورت اور قیمتی پیٹی اُتارنے کی کوشش کی مگر سلطان ابھی زندہ تھے۔ انھوں نے لیٹے لیٹے ہی تلوار کا ایک ایسا بھرپور وار کیا کہ انگریز سپاہی کا گھٹنا کٹ گیا۔ اُس سپاہی نے سلطان کر سر کا نشانہ لگا کر گولی چلائی گولی لگتے ہی فتح علی سلطان ٹیپو شہید ہو گئے۔

                                                            سلطان کی شہادت کے وقت ۲۹ ذوالقعدہ ۱۲۱۳ھ مطابق۴؍ مئی ۱۷۹۹ء بروز سنیچر کا سورج غروب ہو رہا تھا عین اُسی وقت سلطنتِ خد ادا دمیسورکی عزت و عظمت ہی نہیں بلکہ  پوری مملکتِ ہندوستان کی عزت و عظمت کا آفتاب بھی ہمیشہ کے لیے ڈوب گیا۔ سلطان کی شہادت سے ہندوستان کی آزادی کا چراغ بھی بجھ گیا۔

ان للّٰہ و انا الیہ راجعون۔۔۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر مشاہد رضوی کی کتاب’’سلطان ٹیپو‘‘ سے ماخوذ

admin:

View Comments (3622)